نئی دہلی،6؍نومبر(ایس اونیوز؍ایجنسی) ایودھیاپرآنے والے فیصلے کے پیش نظر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بی جے پی نے اپنے مسلم رہنماؤں کے ذریعے دوسرے فریقوں کے ساتھ ملاقاتوں کاسلسلہ شروع کیاہے- چنانچہ آر ایس ایس-بی جے پی کے سنیئر مسلم لیڈران اپنی کمیونٹی کے علماء اوردانشوران سے میٹنگوں میں مصروف ہیں -دومیٹنگوں کے بعداگلے ایک ہفتے میں 20میٹنگیں ہونی ہیں ۔
اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی کی رہائش گاہ پرپرتکلف دعوت کے بعدایودھیا معاملے کو لے کر ایک میٹنگ ہوئی-اس میں علماء سمیت آر ایس ایس کے کئی لیڈر، بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین بھی موجودرہے- اس میٹنگ کا مقصد ملک میں نظم ونسق اورامن وامان کی پاسداری بتایاجارہا ہے، میٹنگ کواس لیے مشکوک قراردیاجارہاہے کہ لاء اینڈآرڈرکی بحالی مقصودہوتی تووزیرداخلہ اعلیٰ افسران کے ساتھ میٹنگ کرتے لیکن جن لوگوں کے ساتھ اب تک میٹنگیں ہورہی ہیں،اکثریت مشکوک رہی ہے-اقلیتی کمیشن کے چیئرمین سید غیورالحسن رضوی نے بتایاہے کہ ایک کمیونٹی کے طور پر مسلمانوں نے ایسے کئی ٹرننگ پوائنٹس مس کر دیئے جب اس مسئلے کو بات چیت سے حل کیا جا سکتا تھا-یہ ایک ہندو اکثریتی ملک ہے اور رام مندرآستھا کا موضوع ہے-مسلمانوں کو اس مسئلے کو مسجد اور مندر سے اوپر اٹھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے-بی جے پی کے قومی اقلیتی سیل کے صدر عبد الرشید انصاری کہتے ہیں کہ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد کمیونٹی کو یہ بتانا ہے کہ سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے کسی کو بھی مشتعل نہ ہونے دے۔
آر ایس ایس سے منسلک اندرپرستھ عالمی ڈائیلاگ سنٹر کے چیف ایگی کیٹیو ارون آنندنے کہاہے کہ ملک کا مفاد اسی میں ہے کہ مسلم دارا لشکوہ اور اے پی جے عبدالکلام کو اپنے رول ماڈل کے طورپر دیکھیں اور حملہ آوروں جیسے بابر، اورنگ زیب کی وراثت سے خود کو دور رکھیں -میٹنگ کے شرکاء میں آرایس ایس کے ڈاکٹر گوپال کرشن،جمیعۃ علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی، پروفیسر اختر الواسع، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر طارق منصور، پارلیمنٹ مسجد کے امام مولانا محب اللہ ندوی،کمال فاروقی، درگاہ اجمیر شریف سے امین پٹھان، شیعہ عالم دین محسن تقوی،جلال حیدر، جے این یو عربی شعبہ کے پروفیسر محمد قطب الدین بھی شامل تھے-اس سے پہلے دونومبرکوآرایس ایس کے مسلم نمالیڈران کے ساتھ بھی دیررات میٹنگ ہوئی ہے جس میں این سی پی یوایل کے ڈائریکٹرشیخ عقیل،نقوی،شہنوازحسین،فیروزبخت،ظفراسلام ترجمان بی جے پی جیسے لوگ موجودرہے-بتا دیں کہ گزشتہ ہفتے ہی ایک آرایس ایس کے اجلاس میں اس منصوبہ کا خاکہ تیارکیاگیاتھا-اس اجلاس میں آر ایس ایس کے مشترکہ سکریٹری جنرل کرشن گوپال، بی جے پی کے سابق منظم سکریٹری رام لال(اب تنظیم کے پروگراموں کے انچارج) اور مسلم راشٹریہ منچ کے سرپرست اندریش کمار شامل ہوئے تھے-سنگھ پریوارنے اس دوران ایسے مسلم لیڈروں کو مقرر کیا جن سے مسلم اسکالروں اوراداروں کے ساتھ اگلے ایک ہفتے میں 20سے زائد میٹنگیں ہوں گی-